خاموشی کی آخری تحریر
سو ایکڑ زمین... بس اسی کی قیمت پر میری زندگی کی سب سے قیمتی ہستی کا سودا کر دیا گیا۔ گاؤں کی سادہ دل، خاموش طبیعت لڑکی، جو نہ صرف میرے غرور کا شکار بنی بلکہ میرے بےرحم رویے کی چکی میں بھی پستی رہی۔
نکاح کے بعد سے لے کر پورا ایک برس گزر گیا، اور میں نے کبھی اسے بیوی سمجھا ہی نہیں۔ کمرے میں تو رہتی تھی مگر فرق صاف تھا...
میں آرام دہ بستر پر، اور وہ ٹھنڈے فرش پر تنہا۔
کتنے ہی موسم بدلے، کتنی ہی راتیں آئیں اور گئیں، مگر اس
۔، مگر اس نے نہ زبان کھولی، نہ شکایت کی۔ نہ کبھی کسی
پھر ایک رات ایسا لمحہ آیا، جب میری سانسیں الجھنے لگیں، شاید موت کے سائے قریب آ گئے تھے۔
نیند کی گہرائی میں ایک ہلکی جنبش محسوس ہوئی۔ آنکھ کھلی تو وہ خوفزدہ، کپکپاتے لہجے میں مجھے پکار رہی تھی:
"اُٹھیں… سانسیں ٹھیک نہیں… آپ ٹھیک ہیں نا؟"
لیکن میں…!
میں نے بغیر دیکھے، بغیر سوچے، غصے میں آ کر اسے کمرے سے دھکیل دیا۔
وہ دبے قدموں باہر چلی گئی۔
صبح آنکھ کھلی تو دل بےچین تھا۔ رات کا منظر بار بار نگاہوں کے سامنے آ رہا تھا۔ اس کا پریشان چہرہ، اس کی گھبرائی ہوئی آواز، اور میری بےرخی…
پھر جب اسے تلاش کیا تو سارا گھر چھان مارا۔ وہ کہیں نہ تھی۔
اور تب میری نظر میز پر رکھے اس کاغذ پر پڑی…
---
"السلام علیکم،
ایک سال گزر گیا…
تم نے کبھی دل سے نہیں چاہا کہ میں اس کمرے میں رہوں، تو آج دل نے کہا کہ شاید میرا یہاں رہنا اب بوجھ ہے۔
یقین جانو، میں نے تمہیں ہر لمحہ دعاؤں میں رکھا، تمہاری بےخبری میں تمہاری ہر تکلیف کو محسوس کیا۔
فرش پر سوتے سوتے میں نے 50 بار تمہیں بخار میں تڑپتے دیکھا،
30 بار نیند میں تمہاری بےچین سانسوں کو سنا،
20 بار دل نے چاہا کہ تمہارے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھوں کہ کہیں بہت زیادہ تو گرم نہیں…
مگر ہر بار خود کو روک لیا، کیونکہ میں جانتی تھی…
تمہیں میری فکر نہیں۔
آج رات پہلی بار حد پار کی… معاف کرنا۔
شاید اب مزید برداشت کی ہمت نہیں رہی۔
جا رہی ہوں۔
خدا تمہیں سلامت رکھے، خوش رکھے…
کہ شاید میں دعاؤں کے سوا تمہیں کچھ نہ دے سکی۔"
---
اس خط کے بعد دل کے اندر ایک سنّاٹا اتر گیا…
جس کے وجود کو میں نے نظرانداز کیا، وہ میری دعاؤں میں شامل ہو چکی تھی۔
اور آج…
جب وہ چلی گئی، تب جا کے احساس ہوا کہ شاید سو ایکڑ زمین حاصل کر کے میں نے اپنی پوری دنیا کھو دی۔
اب اکثر راتوں کو، بستر سے اتر کر میں خود فرش پر لیٹ جاتا ہوں…
شاید اس درد کو محسوس کرنے کے لیے جو وہ ایک برس تک خاموشی سے سہتی رہی۔
---
.jpeg)
Comments
Post a Comment